Best form of Ibadat

30. June 2009

عبدیت کی برگزیدہ ترین حالت یہ ہے کہ آدمی یہ دیکھے کہ کس لمحے خدا کی خوشنودی کس چیز میں اور کس انداز میں زیادہ ہے، اور پھر اسی کے مطابق آدمی خدا کو خوش کرنے میں لگ جائے....

چنانچہ اگر کہیں پر جہاد کا وقت آن کھڑا ہوا ہے تو سب سے برگزیدہ عبادت اس لمحے جہاد ہی ہے، بے شک اس کیلئے آدمی کو اپنی عبادت کے معمولات چھوڑنے کیوں نہ پڑ جائیں۔ بے شک رات کا قیام اور دن کے روزے رکھنا اس سے کیوں نہ متاثر ہوتا ہو۔بلکہ فرض نماز جس طرح حالت امن میں بصورتِ تمام ادا کی جاتی ہے، فرض نماز کی وہ بدرجہءاتم ادائیگی اس سے کیوں نہ متاثر ہوتی ہواور آدمی کو قیام وغیرہ کی قربانی دے کر گھوڑے کی پیٹھ پر نماز کیوں نہ پڑھنی پڑے۔

گھر میں مثلاً مہمان آگیا ہے تو اس وقت سب سے افضل کام یہی ہے کہ آدمی اس کا حق ادا کرنے میں لگ جائے بے شک اس سے آدمی کے مستحبات کا کوئی معمول کیوں نہ متاثر ہوتا ہو۔

ایک وقت میں بیوی کا حق ادا کرنا سب سے افضل عمل ہوگا اور ایک وقت میں اہل وعیال اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنا۔

سحر کا وقت ہو تو سب سے افضل عمل یہ ہوگا کہ آدمی قیام کے اندر خدا کے ساتھ مناجات کرے۔ اُس کا کلام پڑھنے میں مگن ہو۔ اُس کے ساتھ دعا اور پکار کا رشتہ بحال کرے اور بکثرت استغفار کرے۔

جس وقت ایک طالبِ علم اور ایک ملتمسِ ارشاد تمہارے پاس آ کھڑا ہو یا کسی بے علم کو کچھ بتانے سمجھانے کا تقاضا پیش آچکا ہو تو اپنی کل توجہ اس کی تعلیم کی جانب کر دینا اور علم اور بھلائی سے اس کی جھولی بھر دینے کیلئے کوشاں ہوجانا اس لمحے کیلئے بہترین عمل ہوگا۔

اذان ہوگئی ہے تو اس وقت ’سب سے افضل‘ عمل یہ ہے کہ نیکی کے دوسرے سب معمولات چھوڑ کر آدمی اس صدا پہ لبیک کہتے ہوئے پیر سے پیر ملائے عبادت گزاروں کی صف میں آ کھڑا ہو۔

پنجوقتہ نمازوں کے اوقات میں، سب سے افضل عمل یہ ہے کہ آدمی کی تمام تر توجہ اور سنجیدگی اس بات پر مرکوز ہو جائے کہ یہ نماز بہترین سے بہترین انداز میں کیونکر ادا کی جائے۔ اول وقت کو پانا کیونکر یقینی بنایا جائے اور مسجد دور بھی ہو تو بھی پہلی صف کو کیونکر پایا جائے۔

جس وقت ایک غریب محتاج کی مدد کرنا ضروری ہو اور آدمی کا اپنے مال سے یا اپنی جسمانی صلاحیت سے یا اپنے اثر ورسوخ یا اپنی سماجی حیثیت سے کام لیتے ہوئے ایک حاجتمند کے کام آنا اس لمحے کا تقاضا ہو، جس وقت کسی کی فریاد رسی کرنا آدمی سے مطلوب ہو.... تو اس وقت یہی کام سب سے افضل کہلائے گا، چاہے اس کیلئے تمہیں اپنے نیکی کے معمولات اور اپنے مسنون ورد وظیفے کیوں نہ چھوڑنے پڑیں اور اپنی خلوت کو کیوں نہ سمیٹنا پڑے۔

جس وقت قراءتِ قرآن کیلئے بیٹھو تو سب سے افضل عمل اس وقت یہی ہے کہ اس کے معانی میں ڈوب جاؤ، اپنے دل کی پوری توانائی کے ساتھ اور آخری درجے کی دلجمعی اختیار کرتے ہوئے تدبر اور غور وفکر کی راہ سے اس کے حقائق میں غوطہ زن ہوجاؤ، یوں سمجھو اس وقت گویا خدا خاص تمہی سے ہم کلام ہے۔ اپنے دل کا ایک ایک گوشہ مجتمع کر کے خدا کی بات سننے کی جانب متوجہ ہوجاؤ اور اس کے معانی سے اپنی روح کو خوب خوب سیراب کرو۔ اس کے کلام میں اس کے جو جو احکام گزریں ان پر عمل پیرا ہونے کا ساتھ ساتھ عزم کرتے جاؤ۔ ویسے تم جانتے ہو ایک آدمی کو بادشاہ کی جانب سے کوئی مراسلہ موصول ہو تو اس کو بغور پڑھنا اور مراسلہ میں لکھے گئے اس کے احکامات کی تعمیل کا عزم کرتے جانا اس سے کہیں زیادہ اہم ہے کہ اس لمحے تم بادشاہ کی تعظیم ایسے احساسات میں دلجمعی پیدا کررکھنے پر ہی اکتفاءکئے رہو!

9 ذوالحجہ کو اگر تم عرفہ میں کھڑے ہو تو اس وقت ’افضل ترین عمل‘ یہی ہے کہ خدا کے آگے خوب گریہ کرو۔ دعا میں اپنا دل ڈال دو۔ خوب مناجات کرو۔ خشوع وخضوع اور رقت کے ساتھ خدا کا ذکر کرو۔ جبکہ روزے سے، جوکہ اس عمل کی بدرجہء اتم ادائیگی کے معاملہ میں تمہاری کارکردگی کم کرسکتا ہے، اس دن احتراز کرو۔

ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں تو افضل ترین عمل عبادت گزاری ہے، خصوصاً تکبیر، تہلیل اور تحمید وغیرہ، جوکہ ان دنوں میں غیر فرضِ عین جہاد سے بھی افضل ہے۔

رمضان کی آخری دس راتیں ہیں تو افضل ترین عمل خدا کے گھروں میں ڈیرے ڈال دینا ہے اور مسجد کا کوئی کونہ سنبھال کر خدا کے ساتھ خلوت اختیار کر لینا اور پورا ایک عشرہ خدا کا مجاور بنا رہنا۔ اس وقت افضل عمل یہ نہیں کہ لوگوں کے ساتھ گھلو ملو اور ان کو بھلائی پہنچانے میں مصروف ہوجاؤ۔ حتیٰ کہ اس وقت اعتکاف اور لوگوں سے کنارہ کشی کئے رکھنا علماء کی ایک بڑی تعداد کے نزدیک لوگوں کو تعلیم دینے اور قرآن پڑھانے سے بھی افضل ہے۔

تمہارا بھائی بیمار، صاحب فراش ہوا پڑا ہے، یا بستر مرگ پہ چلا جانے کی نوبت آگئی ہے، اس وقت سب سے افضل عمل اس کی عیادت کرنا ہے۔ تمہارا بھائی فوت ہوگیا ہے تو اس لمحے افضل ترین عمل اس کے جنازے میں شرکت کرنا ہے اور اس کی میت کو کندھا دینے کیلئے نکلنا۔ اس وقت اس عمل کو ہی ترجیح دی جائے گی نہ کہ خدا کے ساتھ خلوت اختیار کر رکھنے کو اور مراقبے اور اس کی جانب توجہ کی دلجمعی کو۔

کوئی بڑا واقعہ ہوگیا ہے، لوگوں پر کوئی آفت ٹوٹ پڑی ہے، تو اس وقت ہنگامی صورتحال پر قابو پانے میں جو کچھ کر سکتے ہو وہ کرنا اور لوگوں کو اس آفت سے نکالنا سب سے برگزیدہ عمل ہوگا۔

لوگوں کو حق بات بتانا اور کسی باطل سے روکنے کا فرض درپیش ہے تو اس محاذ پر ڈٹ جانا ہی اس لمحے کا برگزیدہ ترین عمل ہے۔ لوگ اس پر تمہیں برا بھلا کہتے ہیں تو بدستور لوگوں کے مابین رہنااور ان کو حق بتانا اور اس پر ان کی ایذا رسانی برداشت کرتے چلے جانا، مگر ہرگز میدان نہ چھوڑنا افضل ترین عمل ہے۔ (از روئے حدیث) مومن جو لوگوں کے ساتھ گھلتا ملتا اور ان کی ایذا پر صبر کرتا ہے اس مومن سے افضل ہے جو نہ ان کے ساتھ گھلتا ملتا ہے اور نہ اسے ان کی ایذا رسانی پر صبر کی ہی اسکو ضرورت لاحق ہوتی ہے۔

لوگ خیر پر ہوں تو ان کے ساتھ گھل مل کر رہنا، ان سے دور رہنے کی نسبت افضل ہے۔ معاملہ شر کا ہو، تو ان سے دور رہنا ان میں گھلنے سے افضل ہے۔ ہاں آدمی یہ دیکھے کہ وہ ان کے ساتھ گھلے گا تو اس شر کا ازالہ کر سکے گا یا اس کو کم کر سکے گا، تو اس صورت میں شر کے باوجود ان کے ساتھ گھلنا، ان سے دور رہنے کی نسبت افضل ہوگا۔

پس مطلق طور پر کوئی چیز افضل ترین اور برگزیدہ ترین ہے تو وہ ہے یہ دیکھنا کہ عین اس لمحے اور اس صورتحال میں خدا کو سب سے بڑھ کر خوش کرنے والی کیا بات ہے۔ اس سوال کا جو جواب آئے آدمی اسی کو ترجیح دے۔ پس افضل ترین عمل یہ ہوا کہ آدمی ہر لمحے کے فرض کا تعین کرے اور پھر اسی میں جت جائے۔

یہ ہے ’تعبدِ مطلق‘۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو ’عبدیتِ تام‘ کے درجے پر فائز ہوتے ہیں۔

جبکہ اس سے پہلے جن اصناف کا ذکر گزرا وہ ’مقید تعبد‘ کی مثالیں ہیں۔ ایسا شخص جب بھی عبادت کی اس ’شکل‘ سے باہر آتا ہے جس سے وہ مانوس ہے اور جس کو وہ ’اصل‘ عبادت سمجھتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اوپرا محسوس کرتا ہے اور گویا اس کے یہاں کوئی نقص واقع ہوگیا ہے اور وہ ’اصل‘ عبادت سے دور ہوگیا ہے! وجہ یہ کہ وہ خدا کو کسی ایک ہی خاص صورت میں پوجنے سے واقف ہے، نہ کہ خدا کو ہر ہر انداز میں پوجنے سے۔

جبکہ وہ شخص جو ’تعبدِ مطلق‘ یا ’عبدیتِ تام‘ کے منہج پر ہے، عبادت کی کسی بھی خاص شکل کے ساتھ اس کی اپنی کوئی بھی غرض وابستہ نہیں ہوتی کہ وہ بس اسی کو عبادت کی دوسری ہر صورت پر فوقیت دینے پہ مصر ہو۔ اس کو تو غرض صرف ایک بات سے ہے اور وہ یہ کہ عین اِس لمحے اس کے مالک کی خوشنودی کہاں پائی جاتی ہے۔ جہاں وہ پائی جائے گی وہاں یہ پایا جائے گا اور جیسے جیسے وہ ایک صورت سے نکل کر دوسری صورت اختیار کرے گی عین اسی اخلاص اور تجرد کے ساتھ یہ اس کے ساتھ چلتا جائے گا۔ پس اِس کے تعبد کا سب انحصار اسی پر ہے کہ اِس کے مالک کامطلوب کہاں ہے۔ پس یہ شخص عبودیت کی ایک منزل سے دوسری منزل پہ جاتا ہے تو دوسری سے تیسری پر۔ جونہی اس وفا شعار کے سامنے عبدیت کی ایک صورت لائی جاتی ہے یہ پوری دلجمعی کے ساتھ اس کو اختیار کر لینے کی جانب لپکتا ہے۔ یہ عبادت کی ہر ہر شکل میں خوب سے خوب رنگ بھرتا ہے اور بندگی کی ہر ہر صورت پر کمال کی محنت کرتا ہے، تا آنکہ اس کے سامنے عبدیت کی کوئی اگلی منزل اور بندگی کی کوئی دوسری صورت لے آئی جاتی ہے۔ یوں، اس کا کام مالک کی منشا اور رضا کے پیچھے چلتے جانا ہے۔ وہ اس کو جب تک چلائے، جدھر کو چلائے، جیسے چلائے، یہ چلتا ہے!!! اس کے سوا اسے کسی بات سے غرض نہیں!!!

پس جہاں تم علماءاور علم کی مجلسیں دیکھو، اِس کو بھی وہاں ان کے ساتھ دیکھو گے!!!

جہاں عبادت گزاروں کے جمگھٹے ہوں، تم اِس کو وہاں ان کے ساتھ پاؤ گے!!!

جہاں تم مجاہدین کو دیکھو گے، اِس کو وہاں ساتھ دیکھو گے!!!

ذکر کرنے والوں کی مجلسوں میں تم اسے باقاعدہ موجود پاؤ گے!!!

اور وہ لوگ جو خدا کو اپنی توجہ کا مرکز بنانے پر خوب خوب محنت کرتے ہیں اور اس باب میں دلجمعی کی نعمت پانے کیلئے کوشاں دیکھے جاتے، اور جو قلب کو خدا کا اعتکاف کرواتے ہیں، اس کو تم وہاں ان کے ساتھ دیکھو گے!!!

لوگوں کی خوشیوں غمیوں میں تم اسے غائب نہ پاؤ گے۔ فقیروں جاجتمندوں کی خدمت، مظلوموں کی فریاد رسی اوردردمندوں کے غم بانٹنے کی سرگرمیوں سے تم اس کو مفقود نہ پاؤ گے!!!

پس یہ ہے مطلق خدا کا عبد۔ نہ یہ کسی خاص صورت کا پابند۔ نہ کسی خاص شکل کا اسیر۔ نہ کسی خاص ہیئت میں محدود۔ نہ رسمیات سے مانوس۔ اس کی سعیِ عمل اپنے نفس کے مطلوب کا پیچھا کرنا نہیں اور نہ ہی اپنی پسند کی عبادت کا چناؤ کرنا۔ یہ اپنے رب کے منشا ومطلوب کا متلاشی رہتا ہے، خواہ اِس کے اپنے نفس کی لذت اور راحت خاص اُس چیز میں ہو یا کہیں اور۔

یہ ہے وہ خوش قسمت جس نے مقامِ ’ایاک نعبد وایاک نستعین‘ کو درحقیقت پا لیا ہے۔ اور جوکہ اس کی حقیقت پر واقعتا قائم ہے!!!

اس کی پوشاک، جیسی اس کو میسر آگئی،

کھانا، جیسا مل گیا،

اس کی مصروفیت، ہر لمحے خدا نے جو مامور ٹھہر ا رکھا ہے،

اس کی نشست گاہ، جہاں اس کو بیٹھنے کی جگہ مل گئی، یا جہاں اس کیلئے گنجائش نکل آئی، یا جہاں اس کا پایا جانا ضروری ہوا،

نہ اس پر کوئی خاص لیبل،

نہ اس کے سوچنے اور عمل کرنے کا کوئی خاص دائرہ،

اور نہ اس پر کوئی خاص ٹھپہ،

اور نہ کوئی بہت ہی خاص حلیہ،

نہ دست بوسی، نہ رسومِ آستانہ،

مطلق آزاد!!! مطلق عبد!!! کسی چیز، کسی صورت، کسی ہیئت کا پابند نہیں سوائے خدا کے حکم کا تتبع کرنے کے۔ جہاں خدا کی فرمائش، وہاں یہ۔ اس کا قافلہ مسلسل سفر میں رہتا ہے اور کوئی مقام اس کا نقطہء اختتام نہیں۔ اس مسافر کا پڑاؤ وہیں جہاں اس کو کچھ دیر رک جانے کا حکم ہو۔ خدا کے سوا کوئی اس کی آخری منزل نہیں!!!

ہر حق پرست اِس سے اُنس پائے،

ہر باطل پرست اِس سے وحشت کھائے،

وہ باران جو جہاں برسے وہاں ہریالی کر دے،

وہ نخلستان جس کا پت جھڑ نہیں(2)،

یہ پورے کا پورا فائدہ مند ہے، حتیٰ کہ اس کے کانٹے بھی!!!

خدا کے دشمنوں اور نافرمانوں کیلئے چبھتا ہوا کانٹا،

خدا کی حرمتوں کی پامالی ہو تو یہ ننگی تلوار،

خدا شناسوں کیلئے بریشم کی طرح نرم!!!

پس یہ خدا کا ہے، خدا کے دم سے ہے، خدا کے ساتھ ہے!!!

خدا کے ساتھ ہوتا ہے تو مخلوق سے ماوراءہو کر،

مخلوق کے ساتھ ہوتا ہے تو نفس سے ماوراءہو کر،

خدا کے ساتھ اس کا معاملہ ہوتاہے تو سب خلائق بیچ سے روپوش ہوجاتی ہیں اور یہ بھری دنیا میں رہتا ہوا دنیا سے نکل آتا ہے! یہ خدا کے ساتھ ہوتاہے تو گویا کوئی دوسرا نہیں ہوتا!!!

اِس کا معاملہ خلق ِ خدا کے ساتھ ہوتا ہے تو نفس بیچ سے روپوش ہوجاتا ہے۔ اور یہ ان کیلئے مجسم خلوص ہوتا ہے!

زہے خوش نصیبی! یہ بھری دنیا میں کس قدر اجنبی ہے!!!

بسی دنیا میں اِس کیلئے کس قدر اداسی ہے!!!

خدا کے ساتھ اِس کا کیسا دل لگتا ہے!!!

معبود کے ہاں یہ کیسی خوشی، کیسی طمانینت اور کیسا گہرا سکون پاتا ہے!!!

خدایا! تیری مدد اور تیرا بھروسہ!!!!!

(استفادہ از: مدارج السالکین، مؤلفہ امام ابن القیم ج1 ص90-85)

Thought Process

Comments

Add comment


(Will show your Gravatar icon)

  Country flag

biuquote
  • Comment
  • Preview
Loading